بجٹ اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار
فائل فوٹواسلام آباد:بجٹ اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کا کورونا ٹیسٹ لازمی قراردے دیا گیا، فیس ماسک اور ہینڈ گلووز پہننے کے ساتھ سماجی فاصلہ یقینی بنانا ہوگا، صرف 86ارکان ایوان میں داخل ہوسکیں گے،کورم کی نشاندہی نہیں کی جاسکے گی،حکومت اور اپوزیشن نے ایس او پیز طے کرلئے۔
کورونا کی صورتحال کشیدہ مگر بجٹ منظوری بھی لازمی ہے، حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کے ذریعے درمیانی راہ نکال لی،ایوان میں داخلے کیلئے کورونا ٹیسٹ کا منفی آنا ضروری ہے۔
بجٹ اجلاس کے دوران اراکین پارلیمنٹ کا کورونا ٹیسٹ لازم قراردے دیا گیا، ممبران فیس ماسک اور ہینڈ گلووز پہننے کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے پابند ہوں گے،زیادہ سے زیادہ 86 ممبران کا ایوان میں داخلہ ممکن ہوگا، کوئی کورم کی نشاندہی نہیں کرے گا۔
حکومت اور اپوزیشن نے ایس او پیز طے کرلئےجبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر بجٹ اجلاس کیلئے ایس او پیز کو حتمی شکل دی، جس کے مطابق جن ممبران کے کورونا ٹیسٹ نہیں ہوئے انہیں ایوان میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ممبران کی حاضری گیٹ ون پر لگا دی جائےگی البتہ ان کا ہال میں آنا ضروری نہیں ہوگا کسی مہمان کو پارلیمنٹ میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایک وقت میں 46 حکومتی اور اتحادی ، 40 اپوزیشن کے اراکین شریک ہو سکیں گے،جن ممبران کا چیف وہیپ نام دیں گے وہی اجلاس میں شریک ہوں گے اور بحث کریں گے۔
کٹوتی کی تحاریک پر بحث ہوگی البتہ اس پر ووٹنگ نہیں ہوگی، بجٹ 30 جون تک منظور ہوگا اس سے آگے نہیں ہوگا۔
فنانس بل کی منظوری کے موقع پر کورم مکمل رکھا جائے گا، عام دنوں یعنی بحث کے دنوں میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے گی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔